کلبرگی،17؍اپریل (ایس او نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے لئے تبلیغی جماعت کے اجتماع کو میڈیا میں بار بار مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے مگر لاک ڈاون کی خلاف ورزیاں کہاں کہاں اور کون کون لوگ کررہے ہیں، اُس پر گودی میڈیا اور سرکاری عہدیداران بھی خاموش ہیں۔
لاک ڈاؤن کے 23؍دن گذر چکے ہیں۔ 3 ؍مئی تک لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ لوگوں کو مذہبی تقربیات کے لئے اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں ہے۔یہاں تک کہ مساجد میں نماز پڑھنے بلکہ جمعہ نماز بھی پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن ایسے حالات میں کلبرگی کے چتاپور تعلقہ کے لاؤرگاؤں میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رتھ اُتسو منائے جانے کی اطلاع ملی ہے ۔ جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ہیں
بتایا جارہا تھا کہ اس سے قبل گاؤں کے لوگوں نے اُتسو نہ منانے کا فیصلہ کیا تھا،مگر اچانک جمعرات کو رتھ اُتسو کا اہتمام کیا گیا۔ سوشیل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر رتھ اُتسو کی خبر آنے کے بعد مقامی پولیس حرکت میں آگئی اور لاؤر گاؤں کے 40؍افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
یادر ہے کہ کورونا وائرس سے ملک میں پہلی موت اسی ضلع یعنی کلبرگی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد کورونا وائرس کے کئی معاملات ملک کے دیگر حصوں سے سامنے آئے تھے۔ کلبرگی کے جس گاؤں میں رتھ نکالا گیا اس سے صرف 3؍ کلو میٹردورکا تمام علاقہ سیل کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود گاؤں کے لوگوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے‘ رتھ اُتسو’ منایا ۔ جمعرات کے روز ہوئے رتھ اُتسو میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک رہے۔
گودی میڈیا اس بات کا بار بار اور خوب واویلا مچارہی ہے کہ دہلی مرکز میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں امتناعی احکامات کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے، لیکن حکومت اس بات کی وضاحت دینے کے لئے تیار نہیں ہے کہ جب ملک بھر میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا تھا تو جو لوگ مرکز میں پھنسے ہوئے تھے اور ذمہ داران نے انتظامیہ سے رابطہ کرکے اُنہیں گھر پہنچانے کی درخواست کی تھی تو اُس وقت انتظامیہ ٹس سے مس کیوں نہیں ہورہی تھی۔